یوں محمد ہیں زمانے میں زمانے کے لیے
جیسے اک بولتا عنوان فسانے کے لیے
ہر خطا کار پہ رحمت کی نظر ہو جیسے
رات کے بعد زمانے میں سحر ہو جیسے
جس طرح گم کردہ منزل کو منزل کا سراغ
جس طرح تاریکیوں میں نورِ وحدت کا
چراغ
زندگی جیسے ملے مردوں کو جینے کے لیے
جیسے طوفان میں ساحل ہو سفینے کے لیے
یوں محمد ہیں زمانے میں زمانے کے لیے
جیسے اک بولتا عنوان فسانے کے لیے
جرم کو دامنِ رحمت میں چھپانے کے لیے
ہر برے حال میں امت کو بچانے کے لیے
ہم بگڑنے کے لیے آپ بنانے کے لیے
ظالموں سے زیر دستوں کو چھڑایا آپ نے
آدمی سے آدمی کا حق دلایا آپ نے
دوستوں پر مہربانی ، دشمنوں پر شفقتیں
رحمت للعلمین بن کر دکھایا آپ نے
جاگتے رہتے تھے راتوں کو محمد معصوم
یوں انہیں دیکھ کر ہو جاتی تھی دائی
مغموم
لوریاں گا کے مچا دیتی تھی گھر میں اک
دھوم
ہائے یہ راز حلیمہ کو نہیں تھا معلوم
وہ نہیں سوتے جو آتے ہیں جگانے کے لیے
آپ سے پہلے زمانے کی عجب حالت تھی
آدمی، جہل مجسم تھا ، سراپہ وحشی
۳۶۰ خداوں سے بسی تھی بستی
شکر اللہ کا ایسے میں رسول عربی
آئے انسان کو انسان بنانے کے لیے
آدمی نے آدمی کے مرتبے کو پا لیا
آئینہ وہ آدمیت کو دکھایا آپ نے
آپ کے احسان اتنے جن کا گننا بھی
محال
سچ یہ ہے کہ انسان کو انسان بنایا آپ
نے
ایک ہی صف میں کھڑا کر کے گدا و شاہ
کو
امتیازِ بندہ و آقا مٹایا آپ نے
بزم کونین سجانے کے لیے آپ آئے
شمع توحید جلانے کے لیے آپ آئے

0 Post a Comment:
Post a Comment