تم ہو جانِ علی داتا ہند الولی | میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا


 

تم ہو جانِ علی داتا ہند الولی

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

مولا علی کے نور نظر ہو

پیارے نبی کے لختِ جگر ہو

مجھ پہ عنایت شام و سحر ہو

سیدِ محترم کر دو کر دو کرم

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

جس نے بھی تم کو دکھ میں پکارا

اس کو دیا ہے تم نے سہارا

میرا بھی دامن بھر دو خدارا

والئی بے کساں خواجۂ خواجگاں

میرے خواجہ پیا ممیرے خواجہ پیا

عثماں کے پیارے دکھیوں کے والی

کوئی بھکاری کوئی سوالی

در سے تمہارے لوٹا نہ خالی

تم نے سب کو دیا صدقۂ چشتیہ

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

یاد جو آئے تمری نگریا

چندا کے جیسی توری اٹریا

تڑپوں میں جیسے جل بِن مچھریا

اب تو کرپا کرو ہاتھ سر پہ دھرو

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

نصرت ہے تم پر قربان خواجہ

انور کا ہے یہ ارمان خواجہ

کر دو مجاہد پہ احسان خواجہ

اک نظر ڈال دو مشکلیں ٹال دو

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

میری زیست پُر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی | پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ | meri zeest purmusarrat


میری  زیست پُر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

مجھے حُسن نے ستایا، مجھے عشق نے مِٹایا

کسی اور کی یہ حالت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

 

میں یہ جانتے ہوئے بھی، تیری انجمن میں آیا

کہ تجھے مری ضرورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

جو ہے گردشوں نے گھیرا، تو نصیب ہے وہ میرا

مجھے آپ سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

 وہ جو بے رُخی کبھی تھی وہی بے رُخی ہے اب تک

 مرے حال پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

 وہ جو حکم دیں بجا ہے، مراہر سُخن خطا ہے

اُنہیں میری رُو رعایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

تِرے در سے بھی نباہے، درِ غیر کو بھی چاہے

مرے سَر کو یہ اجازت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

 تِرا نام تک بُھلا دوں، تِری یاد تک مٹا دوں

مجھے اِس طرح کی جُرات کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

تُو اگر نظر ملائے، میرا دَم نکل ہی جائے

تجھے دیکھنے کی ہِمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

جو گِلہ کِیا ہے تم سے، تو سمجھ کے تم کو اپنا

مجھے غیر سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

تِرا حُسن ہے یگانہ، تِرے ساتھ ہے زمانہ

مِرے ساتھ میری قسمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

یہ کرم ہےدوستوں کا، وہ جو کہہ رہے ہیں سب سے

کہ نصیرؔ پر عنایت، کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ