صوفی انور فروز پوری | عشق میں سوزِ عشق سے شمع صفت پگھل گئے

 


عشق میں سوزِ عشق سے شمع صفت پگھل گئے

آپ لگائی ہم نے آگ آپ ہی اس میں جل گئے

 

خوب تھی برقِ حسنِ یار چمکی کہیں گری کہیں

پاس جو تھے بچے رہے دور جو تھے وہ جل گئے

 

دیر تھا یا کہ تھا حرم  اس کی نہیں خبر ہمیں

یار جدھر نکل گیا ہم بھی ادھر نکل گئے

 

مست نظر نے دیکھ کر گرتے ہووں پہ کی نظر

پا کے نظر کا آسرا گرتے ہوئے سنبھل گئے

 

جوشِ جنوں کے ساتھ ساتھ پاسِ ادب بھی رہا ہمیں

حسن کی بارگاہ میں جب گئے  سر کے بل گئے

 

ہم نے خیالِ یار میں دیکھے بلند و پست بھی

برسوں رہا یہ مشغلہ ڈوب گئے اچھل گئے

 

آنکھ تھی محوِ جستجو دل میں تھا شوقِ دیدِ یار

کانٹوں کو روندتے ہوئے آبلہ پا نکل گئے

 

رندوں کے واسطے بھلا قیدِ تعینات کیا

قید تعینات سے جب چاہا تب نکل گئے

 

 

انور ازل کے دن سے ہے عشق و خرد میں دشمنی

جب کبھی سامنا ہوا دونوں میں تیر چل گئے

 

صوفی انور فروز پوری

کلام بیدم وارثی | نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در دیر نہ بیت حرم سے غرض | تری یاد ہو اور دل بیدمؔ ہو ترا درد ہو اور دل بیدمؔ ہو




 

نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در  دیر نہ بیت حرم سے غرض

 کہ ازل سے ہمارے سجدوں کو رہی تیرے ہی نقش قدم سے غرض

 

 جو تو مہر ہے تو ذرہ ہم ہیں تو بحر ہے تو قطرہ ہم ہیں

 تو صورت ہے ہم آئینہ ہیں  ہمیں تجھ سے غرض تجھے ہم سے غرض

 

نہ نشاط وصال نہ ہجر کا غم نہ خیال بہار نہ خوف خزاں

 نہ سقر کا خطر ہے نہ شوق ارم نہ ستم سے حذر نہ کرم سے غرض

 

 رکھا کوچۂ عشق میں جس نے قدم ہوا حضرت عشق کا جس پہ کرم

اسے آپ سے بھی سروکار نہیں جو غرض ہے تو اپنے صنم سے غرض

 

تری یاد  ہو  اور  دل  بیدمؔ  ہو  ترا  درد  ہو  اور  دل بیدمؔ  ہو

بیدمؔ کو رہے ترے غم سے غرض ترے غم کو رہے بیدمؔ سے غرض

نہ فلک چاند تارے نہ سحر نہ رات ہوتی || سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی


 

نہ فلک چاند تارے نہ سحر نہ رات ہوتی

نہ تیرا جمال ہوتا نہ یہ کائنات ہوتی


ابلیس تھا فرشتہ آدم کو سجدہ سمجھا

وہ حکم خدا سمجھتا تو کچھ اور بات ہوتی


یہ کھلے کھلے سے گیسو انہیں لاکھ تم سوارو

میرے ہاتھوں سے سنورتے تو کچھ اور بات ہوتی


سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

وہ نگاہ سے پلاتے تو کچھ اور بات ہوتی


گو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھ لی

وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی


یہ بجا کلی نے کھل کر کیا گلستاں معطر

اگر آپ مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی


گو حرم کے راستے سے وہ پہنچ گئے خدا تک

تری رہ گزر سے جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

شبِ وصال کی ضد ہے کہ جا نہیں آتی || یہ خوش خرام , بہ فرشِ عزا نہیں آتی || دیے خلا میں جلانے کا فائدہ یہ ہے دیے بجھانے یہاں پر ہوا نہیں آتی


 

شبِ وصال کی ضد ہے کہ جا نہیں آتی

یہ خوش خرام , بہ فرشِ عزا نہیں آتی


تمھارا چین بھی غارت ہے آسماں ہو کر

ہمیں بھی راس زمیں کی فضا نہیں آتی


نکل کے دل سے جو فوراً قبول ہو جائے

مجھے تو کوئی بھی ایسی دعا نہیں آتی


دیے خلا میں جلانے کا فائدہ یہ ہے

دیے بجھانے یہاں پر ہوا نہیں آتی


کسی کی آہ و بکا پر خدا نہیں آتا

کسی کی چیخ پہ خلق خدا نہیں آتی

خالد ندیم شانی

یوں میری آنکھ سےبے ساختہ آنسو نکلے || جس طرح پھول کا دل چیر کے خوشبو نکلے || کم از کم اتنا تو تعلق رہے موت کے بعد || صوفیانہ کلام


 

یوں میری آنکھ سےبے ساختہ آنسو نکلے

جس طرح پھول کا دل چیر کے خوشبو نکلے


اب بہار آئے تو اس طرح آئے یا رب

پھول تو پھول ہیں کانٹوں سے بھی خوشبو نکلے


کم از کم اتنا تو تعلق رہے موت کے بعد

کفن سر کائیں اگر، تو میری جگہ تو نکلے

سوزِ غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا || جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا || جوش ملیح آبادی


 

سوزِ غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا

جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا


وہ تجھے یاد کرے جس نے بھلایا ہو کبھی

میں نے تجھ کو نہ بھلایا نا کبھی یاد کیا


پر میرے کاٹ کے صیاد نے اعلان کیا

اب قفس کھول دیا جا تجھے آزاد کیا


سو کے اٹھے ہو مگر چہرے پہ بکھری زلفیں

کس پریشان طبیعت نے تجھے یاد کیا


اس کا رونا نہیں کیوں تم نےکیا دل برباد

اس کا غم ہے کہ بہت دیر سے برباد کیا


اے میں سو جان سے اس طرزِ تکلم پہ نثار

پھر تو فرمائیے کیا آپ نے ارشاد کیا


دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے سونے نہ دیا

جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا


مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید

لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا

جوش ملیح آبادی

آتش ِ غم کو مسیحائی ہوا دیتی ہے || وہ دوا ہی نہیں ہوتی جو شفا دیتی ہے || ادریس آزاد


 

آتش ِ غم کو مسیحائی ہوا دیتی ہے

وہ دوا ہی نہیں ہوتی جو شفا دیتی ہے


اُس کے ترشے ہوئے ہونٹوں پہ وہ ترشے ہوئے لفظ

 بات کرتی ہے تو تصویر بنادیتی ہے


آپ کا کام نہیں آپ ستارے ٹانکیں

عشق کی بات ہے مردوں کو مزا دیتی ہے


سبزہ زاروں میں سِرکتے ہوئے پانی کی قسم

چاندنی رات بھی پھولوں کو غذا دیتی ہے


آپ کا پیار مجھے پھر سے رُلا دیتا ہے

آپ کی بات مرا درد بڑھا دیتی ہے


مجھ سے تو شعر بھی سنتی نہیں نغمہ تو کجا

دہر کا درد مجھے آکے سنا دیتی ہے


روز کہتی ہے مرو! جان سے جاؤ لیکن

اِک ذرا کھانسنے پہ بڑھ کے دوا دیتی ہے


اُس کی مسکان مری جان کی قیمت سے سوا

مُسکراتی ہے کہ مشروب پلا دیتی ہے

ادریس آزاد