تمھارے غم کا سہارا بھی کام آتا ہے || کبھی کبھی یہ کنارہ بھی کام آتا ہے || فیض محمد شیخ


 

تمھارے غم کا سہارا بھی کام آتا ہے

کبھی کبھی یہ کنارہ بھی کام آتا ہے


جسے حقیر سمجھتے ہیں عیش کوشی میں

پھر ایک دن وہ گزارہ بھی کام آتا ہے


تو کچھ نہ بول نہ لب کھول صرف آنکھ اٹھا

گداگروں کو اشارہ بھی کام آتا ہے


ہمیں غرض ہی نہیں پیار کے محاصل سے

ہم ایسوں کو تو خسارہ بھی کام آتا ہے


تمھارا ساتھ نہیں ہے تو کوئی رنج نہیں

مسافروں کو ستارہ بھی کام آتا ہے


مرا نصیب کہ میٹھا کنواں ملا مجھ کو

کڑے دنوں میں تو کھارا بھی کام آتا ہے


وہ جھیل جس پہ گزاری تھی ایک شام کبھی

ہمیں اب اس کا نظارہ بھی کام آتا ہے

فیض محمد شیخ

وہ باتیں تری وہ فسانے ترے || شگفتہ شگفتہ بہانے ترے || عبدالحمید عدم


 

وہ باتیں تری وہ فسانے ترے

شگفتہ شگفتہ بہانے ترے


فقیروں کی جھولی نہ ہوگی تہی

ہیں بھر پور جب تک خزانے ترے


بس اک داغِ سجدہ مری کائنات

جبینیں تری ، آستانے ترے


ضمیرِ صدف میں کرن کا مقام

انوکھے انوکھے ٹھکانے ترے


عدم بھی ہے تیرا حکایت کدہ

کہاں تک گئے ہیں فسانے ترے


عبدالحمید عدم

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے || سرِ آئینہ مرا عکس ہے پسِ آئینہ کوئی اور ہے || سلیم کوثری


 

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

سرِ آئینہ مِرا عکس ہے، پسِ آئینہ کوئی اور ہے


میں کسی کے دست طلب میں ہوں، تو کسی کے حرفِ دعا میں ہوں

میں نصیب ہوں کسی اور کا، مجھے مانگتا کوئی اور ہے


عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی

میں قریب ہوں کسی اور کے، مجھے جانتا کوئی اور ہے


مِری روشنی تِرے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر

تو قریب آ تجھے دیکھ لوں، تو وہی ہے یا کوئی اور ہے


تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی، مجھے دوستوں کا پتا نہیں

تِری داستاں کوئی اور تھی، مِرا واقعہ کوئی اور ہے


وہی منصفوں کی روایتیں، وہی فیصلوں کی عبارتیں

مِرا جرم تو کوئی اور تھا، پر مری سزا کوئی اور ہے


کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے

جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے


جو مِری ریاضتِ نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی

تو پھر اسکے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے